مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے اپنے ایک بیان میں، ایران کے جوہری پروگرام کی پُرامن نوعیت کا ذکر کیے بغیر، انتخابی مہم کے انداز میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اپنی خواہش ظاہر کی ہے، لیکن ایسا ہونے نہیں دیا جائے گا۔
امریکی وزیر خارجہ نے کانگریس کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران کے خلاف ٹرمپ کی مہنگی جارحیت پر اپنے ملک کے عوام اور حکام کی جانب سے شدید تنقید کے پیشِ نظر اس اقدام کا جواز پیش کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ایران کے ساتھ سفارتی حل کا خیرمقدم کرتے ہیں، بشرطیکہ یہ حل ہماری قومی سلامتی کے لیے خطرہ نہ بنے۔
مارکو روبیو نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات رکے نہیں ہیں، تاہم ان کے لیے وقت کا تعین صدر ٹرمپ کریں گے۔ صدر ٹرمپ نے ابھی تک ایران کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ اگر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی ضروری سمجھی تو ہمارے پاس اس کی صلاحیت موجود ہے۔ تاہم ہم ترجیح دیتے ہیں کہ یہ معاملہ پُرامن طریقے سے حل کیا جائے۔
انہوں نے عوامی رائے کو گمراہ کرنے کے مقصد سے بے بنیاد الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ہم ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جہاں ایک ملک کھلے عام کہتا ہے کہ ہم تجارتی جہازوں کو تباہ کر دیں گے۔ ذرا اس بات پر غور کریں۔ یہ ایسا بیان ہے جو شاید 100 یا 80 سال پہلے سننے کو ملتا۔ تہران درحقیقت یہ کہہ رہا ہے کہ اگر ہمیں اپنی مطلوبہ چیزیں نہ ملیں تو ہم پورے خطے کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیں گے۔ ذرا اس بارے میں سوچیں۔ یہ کوئی معمول کی روش نہیں ہے۔ ایران نے 1979ء سے اپنے علاقائی ہمسایوں کے خلاف جنگیں شروع کر رکھی ہیں۔
روبیو نے ٹرمپ کے دعوؤں کو دہراتے ہوئے کہا کہ امریکہ اب بھی کرۂ ارض کی سب سے طاقتور فوجی قوت ہے۔ اگر ہم چاہیں تو اپنے فوجی اہداف حاصل کر سکتے ہیں۔
واضح رہے امریکی عہدیدار نے ایک جانب واشنگٹن کے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے کا کوئی ذکر نہیں کیا، حالانکہ امریکہ وہ واحد ملک ہے جس نے کسی دوسرے ملک (جاپان) کے خلاف ایٹم بم استعمال کیا ہے، جبکہ دوسری جانب غاصب صیہونی حکومت کے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے کو بھی نظر انداز کیا، جو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی سے باہر ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ روس کے پاس بڑی تعداد میں جوہری ہتھیار موجود ہیں۔ شاید لوگ اس بات کو یاد نہ رکھیں، لیکن یہ ایک اہم مسئلہ ہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ آیا یوکرائن میں مذاکرات کے ذریعے امن کا قیام ممکن ہے یا نہیں۔ ہم اسی بات کا جائزہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میرا خیال نہیں کہ یہاں کوئی یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ ہم مذاکرات کے ذریعے کسی معاہدے کے حصول کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ ہم ایک انتہائی مہلک جنگ کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایک جانب کیف کو ہر رات اپنے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر تباہ کن حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ہلاک ہونے والے شہریوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔ حتیٰ کہ روسی جانب بھی ہر ماہ 20 ہزار روسی ہلاک ہو رہے ہیں۔ یہ ایک انتہائی مہلک اور تباہ کن جنگ ہے اور ہر گزرتے مہینے کے ساتھ اس کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
آپ کا تبصرہ